آفرین[2]

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - خلقت، پیدائش۔  میں نہ جانوں کیسے نوراں تھے ہوئی تو آفریں سب پنکھی چھوڑے ہیں تیرے جوت تھے اپنا وطن      ( ١٦١١ء، قلی قطب شاہ، کلیات، ٢٣٠:١ ) ٢ - مخلوقات۔  جہاں آفریں آفریں پر تمام شرف تجہ دیا یا حیات النبی      ( ١٨٠٩ء، شاہ کمال، مخزن العرفان )

اشتقاق

فارسی زبان سے مصدر 'آفریدن' سے مشتق ہے۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٦١١ء میں قلی قطب شاہ کے کلیات میں مستعمل ہے۔

اصل لفظ: آفریدن
جنس: مؤنث